السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. -- باب المنع من الانتفاع بشعر الميتة
-- باب: مردار کے بالوں سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 80
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ شَاةً مَيْتَةً أُعْطِيَتْهَا مَوْلَاةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِجِلْدِهَا". فَقَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ:" إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ. وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي ⦗٣٧⦘ طَاهِرٍ كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ قَالُوا: فَخَصَّ الْأَكْلَ بِالتَّحرِيمِ. وَقَدْ رَوَى أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ زِيَادَةً لَمْ يُتَابِعْهُ عَلَيْهَا ثِقَةٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مردہ بکری دیکھی جو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام کو صدقہ میں دی گئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟“ انہوں نے عرض کیا: وہ مردار ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا صرف (گوشت) کھانا حرام ہے۔“
(ب) فقہا کہتے ہیں کہ آپ نے صرف کھانا حرام قرار دیا ہے۔ ابوبکر ہذلی نے زہری سے اس روایت میں کچھ الفاظ زائد بیان کیے ہیں جن کی کسی ثقہ نے متابعت نہیں کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 80]
(ب) فقہا کہتے ہیں کہ آپ نے صرف کھانا حرام قرار دیا ہے۔ ابوبکر ہذلی نے زہری سے اس روایت میں کچھ الفاظ زائد بیان کیے ہیں جن کی کسی ثقہ نے متابعت نہیں کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 80]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 1421، مسلم363»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 80 in Urdu