🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1691. -- باب: من طلع الفجر وفي فيه شيء لفظه وأتم صومه استدلالا بما
-- باب: اس شخص کا بیان جس پر فجر طلوع ہو گئی اور اس کے منہ میں کوئی چیز تھی تو اس نے اسے اگل دیا اور اپنا روزہ مکمل کیا، اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8023
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٣٧٠⦘ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ، عَنْ جَدِّهِ شَيْبَانَ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَنَادَيْتُ فَتَنَحَّيْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبَا يَحْيَى"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" ادْنُهْ، هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ" قُلْتُ: إِنِّي أُرِيدُ الصَّوْمَ، قَالَ:" وَأَنَا أُرِيدُ الصَّوْمَ، وَلَكِنْ مُؤَذِّنُنَا فِي بَصَرِهِ سُوءٌ، أَوْ شَيْءٌ، أَذَّنَ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ" كَذَا رَوَاهُ حَفْصٌ وَرَوَاهُ شَرِيكٌ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ الْأَنْصَارِيِّ وَهُوَ أَبُو هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَالْحَدِيثُ تَفَرَّدَ بِهِ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، فَإِنْ صَحَّ فَكَأَنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ وَقَعَ تَأْذِينُهُ قَبْلَ الْفَجْرِ، فَلَمْ يَمْتَنِعْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَكْلِ، وَعَلَى هَذَا الَّذِي ذَكَرْنَا تَتَّفِقُ الْأَخْبَارُ وَلَا تَخْتَلِفُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا شیبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور میں نے اذان کہی اور کونے میں بیٹھ گیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو یحییٰ!“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہو جاؤ اور کھا لو۔“ میں نے عرض کیا: میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی روزہ رکھنا چاہتا ہوں، لیکن ہمارے مؤذن کی آنکھ میں کچھ خرابی ہے یا کچھ اور ہے کہ اس نے طلوع فجر سے پہلے اذان کہہ دی۔“
اس حدیث کو بیان کرنے میں اشعث بن سوار اکیلے ہیں۔ اگر یہ صحیح ہو تو گویا سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان فجر سے پہلے ہو گئی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے نہیں رکے۔ ہم نے جو ذکر کیا ہے اس کی بنا پر تمام اخبار باہم موافق ہو جاتی ہیں اور ان میں اختلاف نہیں رہتا، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8023]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه الطبراني»

الحكم على الحديث: حسن لغيره

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8023 in Urdu