السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1697. -- باب: كفارة من أتى أهله في نهار رمضان وهو صائم
-- باب: اس شخص کے کفارے کا بیان جس نے رمضان کے دن میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کیا۔
حدیث نمبر: 8044
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلَكْتُ، قَالَ:" وَمَا ذَاكَ؟" قَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَجِدُ رَقَبَةً؟" قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟" قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟" قَالَ: لَا أَجِدُهُ، قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، قَالَ:" اذْهَبْ فَتَصَدَّقْ بِهَذَا"، فَقَالَ: عَلَى أَفْقَرَ مِنِّي، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ:" اذْهَبْ بِهِ إِلَى أَهْلِكَ" قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا رُخْصَةً لِلرَّجُلِ وَحْدَهُ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ الْيَوْمَ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِلَّا أَنْ يُكَفِّرَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنْ مَعْمَرٍ وَبِمَعْنَى هَؤُلَاءِ رَوَاهُ أَكْثَرُ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، وَعُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ وَغَيْرُهُمَا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور گویا ہوا کہ میں ہلاک ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیسے؟“ تو اس نے کہا: میں رمضان میں بیوی سے جماع کر بیٹھا ہوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو غلام پاتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو متواتر دو مہینے روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی طاقت رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لے جا کر صدقہ کر دے۔“ اس نے کہا: اپنے سے زیادہ محتاج پر؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، ہم سے زیادہ محتاج ان دونوں پہاڑوں کے درمیان کوئی نہیں۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، پھر فرمایا: ”اسے اپنے اہل و عیال کے پاس لے جا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8044]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8044 in Urdu