🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1700. -- باب: رواية من روى الأمر بقضاء يوم مكانه في هذا الحديث
-- باب: اس راوی کی روایت کا بیان جس نے اس حدیث میں اس دن کی جگہ ایک دن قضا کرنے کے حکم کو بیان کیا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8057
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَنْتِفُ شَعْرَ رَأْسِهِ، وَيَدُقُّ صَدْرَهُ، وَيَقُولُ: هَلَكَ الْأَبْعَدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلَاكًا مَاذَا؟" قَالَ: إِنِّي وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي الْيَوْمَ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ:" هَلْ عِنْدَكَ رَقَبَةٌ تُعْتِقُهَا؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَهَلْ تَسْتَطِيعُ صِيَامَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَهَلْ تَسْتَطِيعُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟" قَالَ: لَا، ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ بِعَرَقٍ عَظِيمٍ فِيهِ صَدَقَةُ مَالِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْنَ السَّائِلُ؟" قَالُوا: قَدِ انْصَرَفَ، قَالَ:" عَلَيَّ بِهِ"، فَجَاءَهُ الرَّجُلُ، فَقَالَ:" خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ كَفَّارَةً لِمَا ⦗٣٨٢⦘ صَنَعْتَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعَلَى أَحْوَجَ مِنِّي وَأَهْلِ بَيْتِي، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَحْوَجُ مِنِّي وَمِنْ أَهْلِ بَيْتِي، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، قَالَ:" فَكُلْ وَأَطْعِمْ أَهْلَ بَيْتِكَ، وَاقْضِ يَوْمًا مَكَانَهُ"..
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جو بال نوچ رہا تھا اور سینہ پیٹ رہا تھا کہ بندہ ہلاک ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہلاکت کس وجہ سے؟“ اس نے کہا: آج میں اپنی بیوی سے صحبت کر بیٹھا اور یہ رمضان ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس غلام ہے کہ تو اسے آزاد کرے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو دو مہینے کے متواتر روزے رکھ سکتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ پھر وہ آدمی پلٹ گیا تو لوگوں میں سے ایک اپنے مال کا صدقہ لے کر کھجوروں کا بڑا ٹوکرا لے کر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سائل کہاں ہے؟“ انہوں نے کہا: وہ پھر گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے میرے پاس لاؤ۔“ ایک آدمی اسے لایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لے لو اور صدقہ کر دو جو تو نے کیا اس کا کفارہ ہو جائے گا۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھ سے زیادہ محتاج پر؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے دونوں پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں اور میرے گھر والوں سے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں نظر آگئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لے لو اور اپنے اہل کو کھلا دو اور اس کی ایک دن کی قضا کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8057]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه دارقطني»

الحكم على الحديث: حسن لغيره

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8057 in Urdu