السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1700. -- باب: رواية من روى الأمر بقضاء يوم مكانه في هذا الحديث
-- باب: اس راوی کی روایت کا بیان جس نے اس حدیث میں اس دن کی جگہ ایک دن قضا کرنے کے حکم کو بیان کیا ہے۔
حدیث نمبر: 8062
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: أَتَى أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتِفُ شَعْرَهُ، وَيُضْرَبُ نَحْرُهُ، وَيَقُولُ: هَلَكَ الْأَبْعَدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَا ذَاكَ؟" قَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُعْتِقَ رَقَبَةً؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُهْدِيَ بَدَنَةً؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَاجْلِسْ"، فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقِ تَمْرٍ، فَقَالَ:" خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ"، قَالَ: مَا أَجِدُ أَحْوَجَ مِنِّي، قَالَ:" فَكُلْهُ، وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَ مَا أَصَبْتَ" قَالَ عَطَاءٌ: فَسَأَلْتُ سَعِيدًا: كَمْ فِي ذَلِكَ الْعَرَقِ؟ قَالَ: مَا بَيْنَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا إِلَى عِشْرِينَ هَكَذَا رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَطَاءٍ، وَرَوَاهُ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ عَنْ عَطَاءٍ بِزِيَادَةِ ذِكْرِ صَوْمِ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْقَضَاءَ وَلَا قَدْرَ الْعَرَقِ، وَرُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ، وَالِاعْتِمَادُ عَلَى الْأَحَادِيثِ الْمَوْصُولَةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جو اپنے بال نوچ رہا تھا اور سینہ پیٹتا تھا اور کہہ رہا تھا کہ بندہ ہلاک ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیسے؟“ اس نے کہا: رمضان میں میں اپنی بیوی کو جا پہنچا اور میں روزے سے تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا: ”کیا تو استطاعت رکھتا ہے کہ غلام آزاد کرے؟“ اس نے کہا: نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو استطاعت رکھتا ہے کہ اونٹ کی قربانی دے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر بیٹھ جا۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کا ایک ٹوکرا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”اسے لے جا اور صدقہ کر دے۔“ اس نے کہا: میں اپنے سے زیادہ کسی کو محتاج نہیں پاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو کھا اور ایک دن کا روزہ رکھ اس کی وجہ سے جو تو نے کیا ہے۔“
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سعید رحمہ اللہ سے پوچھا کہ اس ٹوکرے میں کتنی کھجوریں تھیں تو انہوں نے کہا: پندرہ سے بیس صاع تک۔ داؤد بن ابی ہند نے اسے عطاء سے دو مہینے کے متواتر روزوں کے اضافے کے ساتھ بیان کیا ہے، مگر اس میں قضا اور ٹوکرے کی مقدار کا تذکرہ نہیں کیا۔
یہ سعید بن مسیب سے دیگر سندوں سے بھی مروی ہے اور ان پر حدیث کے الفاظ میں اختلاف کیا گیا ہے، اور اعتماد موصول احادیث پر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8062]
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سعید رحمہ اللہ سے پوچھا کہ اس ٹوکرے میں کتنی کھجوریں تھیں تو انہوں نے کہا: پندرہ سے بیس صاع تک۔ داؤد بن ابی ہند نے اسے عطاء سے دو مہینے کے متواتر روزوں کے اضافے کے ساتھ بیان کیا ہے، مگر اس میں قضا اور ٹوکرے کی مقدار کا تذکرہ نہیں کیا۔
یہ سعید بن مسیب سے دیگر سندوں سے بھی مروی ہے اور ان پر حدیث کے الفاظ میں اختلاف کیا گیا ہے، اور اعتماد موصول احادیث پر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8062]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه مالك»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8062 in Urdu