السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1707. -- باب: كراهية القبلة لمن حركت القبلة شهوته
-- باب: اس شخص کے لیے بوسہ لینے کی کراہت کا بیان جس کی شہوت بوسہ لینے سے بھڑک اٹھے۔
حدیث نمبر: 8092
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ، ثنا سَالِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ فَرَأَيْتُهُ لَا يَنْظُرُنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ: مَا شَأْنِي؟ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: أَلَسْتَ الْمُقَبِّلَ وَأَنْتَ الصَّائِمُ؟ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ امْرَأَةً مَا بَقِيتُ" تَفَرَّدَ بِهِ عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ، فَإِنْ صَحَّ فَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ قَوِيًّا مِمَّا يُتَوَهَّمُ تَحْرِيكُ الْقُبْلَةِ شَهْوَتَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند میں دیکھا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف نہیں دیکھ رہے تھے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرا کیا معاملہ ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور فرمایا: ”کیا تم روزے کی حالت میں بوسہ لینے والے نہیں ہو؟“ مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! جب تک میں زندہ رہوں گا روزے کی حالت میں کسی عورت کو بوسہ نہیں دوں گا۔
اس روایت کو بیان کرنے میں عمر بن حمزہ منفرد ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ طاقتور تھے، ان لوگوں میں سے جن کے بارے میں گمان ہوتا ہے کہ بوسہ ان کی شہوت کو ابھارے گا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8092]
اس روایت کو بیان کرنے میں عمر بن حمزہ منفرد ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ طاقتور تھے، ان لوگوں میں سے جن کے بارے میں گمان ہوتا ہے کہ بوسہ ان کی شہوت کو ابھارے گا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8092]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن ابي شبيه»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8092 in Urdu