السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1715. -- باب: ما يستحب من تعجيل الفطر وتأخير السحور
-- باب: افطار میں جلدی کرنے اور سحری میں تاخیر کرنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8126
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا، أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عُمَرَ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا يُصَلِّيَانِ الْمَغْرِبَ حِينَ يَنْظُرَانِ إِلَى اللَّيْلِ الْأَسْوَدِ، ثُمَّ يُفْطِرَانِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْمَبْسُوطِ: كَأَنَّهُمَا يَرَيَانِ تَأْخِيرَ ذَلِكَ وَاسِعًا؛ لِأَنَّهُمَا يَعْمَدَانِ الْفَضْلَ لِتَرْكِهِ بَعْدَ أَنْ أُبِيحَ لَهُمَا، وَصَارَا مُفْطِرَيْنِ بِغَيْرِ أَكْلٍ وَشُرْبٍ؛ لِأَنَّ الصَّوْمَ لَا يَصْلُحُ فِي اللَّيْلِ.
حمید بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما مغرب کی نماز ادا کیا کرتے تھے، جب وہ دیکھتے کہ رات سیاہ ہو گئی ہے۔ پھر وہ نماز کے بعد افطار کیا کرتے تھے اور یہ رمضان میں ہوتا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے مبسوط میں فرمایا ہے کہ تاخیر میں وسعت دیکھ کر ایسا کرتے تھے، نہ کہ ان کا مقصد فضیلت کو چھوڑنا تھا جو ان کے لیے مباح تھی اور وہ بغیر کھائے پیے ہی روزہ افطار کر لیتے تھے، اس لیے کہ رات کو روزہ باقی نہیں رہتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8126]
امام شافعی رحمہ اللہ نے مبسوط میں فرمایا ہے کہ تاخیر میں وسعت دیکھ کر ایسا کرتے تھے، نہ کہ ان کا مقصد فضیلت کو چھوڑنا تھا جو ان کے لیے مباح تھی اور وہ بغیر کھائے پیے ہی روزہ افطار کر لیتے تھے، اس لیے کہ رات کو روزہ باقی نہیں رہتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8126]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8126 in Urdu