السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1716. -- باب: ما يفطر عليه
-- باب: جن چیزوں سے روزہ افطار کیا جائے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 8130
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ وَجَدَ تَمْرًا فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ، وَمَنْ لَا فَلْيُفْطِرْ عَلَى الْمَاءِ، فَإِنَّهُ طَهُوَرٌ" قَالَ الْبُخَارِيُّ فِيمَا رَوَى عَنْهُ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ وَهْمٌ يَهِمُ فِيهِ سَعِيدٌ، وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ عَاصِمٍ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کھجور پائے وہ اس سے افطار کرے اور جو نہ پائے وہ پانی سے افطار کرے، بیشک وہ پاک ہے۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا (جیسا کہ ابو عیسیٰ ترمذی نے ان سے نقل کیا): سعید بن عامر کی حدیث وہم ہے جس میں سعید کو وہم ہوا ہے، اور صحیح حدیث عاصم کی حفصہ بنت سیرین سے روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8130]
امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا (جیسا کہ ابو عیسیٰ ترمذی نے ان سے نقل کیا): سعید بن عامر کی حدیث وہم ہے جس میں سعید کو وہم ہوا ہے، اور صحیح حدیث عاصم کی حفصہ بنت سیرین سے روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8130]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الترمذي»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8130 in Urdu