🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1735. -- باب: المفطر يمكنه أن يصوم ففرط حتى جاء رمضان آخر
-- باب: روزہ چھوڑنے والے کے لیے روزہ رکھنا ممکن ہو مگر وہ کوتاہی کرے یہاں تک کہ دوسرا رمضان آ جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8213
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ رَقَبَةَ، قَالَ: زَعَمَ عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ فِي الْمَرِيضِ يَمْرَضُ وَلَا يَصُومُ رَمَضَانَ ثُمَّ يَبْرَأُ وَلَا يَصُومُ حَتَّى يُدْرِكَهُ رَمَضَانُ آخَرُ، قَالَ:" يَصُومُ الَّذِي حَضَرَهُ، وَيَصُومُ الْآخَرَ، وَيُطْعِمُ لِكُلِّ لَيْلَةٍ مِسْكِينًا" وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ الْجَلَّابُ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُوسَى بْنِ وَجِيهٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا، وَلَيْسَ بِشَيْءٍ، إِبْرَاهِيمُ وَعُمَرُ مَتْرُوكَانِ، وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ فِي الَّذِي لَمْ يَصِحَّ حَتَّى أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ آخَرُ: يُطْعِمُ وَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ، وَعَنِ الْحَسَنِ وَطَاوُسٍ وَالنَّخَعِيِّ: يَقْضِي وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ، وَبِهِ نَقُولُ، لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ} [البقرة: ١٨٤] .
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے اس مریض کے بارے میں فرمایا جو بیمار ہوتا ہے اور رمضان کا روزہ نہیں رکھتا، پھر وہ تندرست ہو جاتا ہے اور روزے نہیں رکھتا یہاں تک کہ دوسرا رمضان آ جاتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ پھر وہ اس رمضان کے روزے رکھے گا جو موجود ہے، بعد میں دوسرے کے رکھے گا اور ہر رات کے عوض مسکین کو کھانا کھلائے گا۔
یہ حدیث ابراہیم بن نافع جلاب نے عمر بن موسیٰ بن وجیہ سے، انہوں نے حکم سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے، اور یہ کچھ بھی نہیں، ابراہیم اور عمر دونوں متروک ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں منقول ہے جو دوسرے رمضان تک صحیح نہیں ہوتا کہ وہ کھانا کھلائے اور اس پر قضا نہیں ہے۔ حسن، طاؤس اور نخعی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ قضا ہے لیکن کفارہ نہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کے فرمان کے تحت کہتے ہیں: ﴿فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾ [سورة البقرة: 184] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8213]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رجاله ثقات»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8213 in Urdu