السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1739. -- باب: من مات وعليه صيام رمضانين
-- باب: اس شخص کا بیان جو وفات پا جائے اور اس پر دو رمضان کے روزے واجب ہوں۔
حدیث نمبر: 8233
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، قَالَ: سُئِلَ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ رَجُلٍ مَاتَ وَعَلَيْهِ رَمَضَانَانِ، وَلَمْ يَصِحَّ بَيْنَهُمَا، فَأَخْبَرَنَا عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْمَدَنِيِّ: أَنَّ رَجُلًا مَاتَ وَعَلَيْهِ رَمَضَانَانِ، فَأَوْصَى أَنْ يَسْأَلُوا الْفُقَهَاءَ مَا يُكَفِّرُهُمَا، وَاقْضُوا عَنِّي دَيْنِي، وَابْدَأُوا بِدَيْنِ اللهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالَ: فَأَتَوَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ:" عَلَيْهِ إِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا"، فَرَجَعُوا إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: صَدَقَ، كَذَلِكَ فَاصْنَعُوا.
عبدالوہاب بن عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن عروبہ رحمہ اللہ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا، جس پر دو رمضان ہوں اور وہ ان دونوں میں تندرست نہ ہو تو انہوں نے ہمیں ابو یزید مدنی رحمہ اللہ سے نقل فرمایا کہ ایک آدمی فوت ہوا اور اس پر دو رمضان تھے تو اس نے وصیت کی کہ فقہاء سے پوچھا جائے کہ ان کا کفارہ کیا ہے؟ اور (اس نے کہا:) مجھ سے میرا قرض بھی ادا کرو اور ابتدا اللہ کے قرض سے کرنا۔ حدیث بیان کی اور اس میں ہے کہ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: اس پر ساٹھ مساکین کا کھانا ہے، تو وہ وہاں سے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف واپس پلٹ آئے تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سچ کہا ہے سو تم ایسے ہی کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8233]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8233 in Urdu