السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1758. -- باب: صيام التطوع والخروج منه قبل تمامه
-- باب: نفلی روزہ رکھنے اور اسے مکمل کرنے سے پہلے توڑ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8339
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو، ثنا ⦗٤٥٦⦘ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ:" يَا عَائِشَةُ هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟" قَالَتْ: قُلْتُ: لَا وَاللهِ مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ، قَالَ:" فَإِنِّي صَائِمٌ" قَالَتْ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ أَوْ جَاءَنَا زُوَّرٌ فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ: أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ أَوْ جَاءَنَا زُوَّرٌ وَقَدْ خَبَّأْتُ لَكَ شَيْئًا، قَالَ:" مَا هُوَ؟" قُلْتُ: حَيْسٌ، قَالَ:" هَاتِيهِ" فَجِئْتُ بِهِ فَأَكَلَ ثُمَّ قَالَ:" قَدْ كُنْتُ أَصْبَحْتُ صَائِمًا" قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: لَفْظُ الْعَقَدِيِّ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كَامِلٍ الْجَحْدَرِيِّ وَزَادَ فِيهِ قَالَ طَلْحَةُ: فَحَدَّثْتُ مُجَاهِدًا بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ ذَاكَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يُخْرِجُ الصَّدَقَةَ مِنْ مَالِهِ فَإِنْ شَاءَ أَمْضَاهَا وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا.
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا: ”اے عائشہ! کیا تیرے پاس کچھ ہے؟“ میں نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! ہمارے پاس کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں روزے سے ہوں۔“ وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو ہمیں ہدیہ دیا گیا یا ہمارے پاس کچھ مہمان آئے۔ ہمارے پاس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پلٹے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ہدیہ دیا گیا ہے یا ہمارے پاس کچھ مہمان آئے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ چھپا لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: وہ حیس ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس لاؤ۔“ میں لائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھا لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ویسے صبح میں نے روزے کی نیت کی تھی۔“
امام مسلم بیان کرتے ہیں کہ اضافے کے ساتھ طلحہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے یہ حدیث مجاہد رحمہ اللہ کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا: یہ صدقہ کرنے والے آدمی کی طرح ہے جو اپنے مال میں سے نکالتا ہے۔ اگر چاہے تو نکالے چاہے تو روک لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8339]
امام مسلم بیان کرتے ہیں کہ اضافے کے ساتھ طلحہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے یہ حدیث مجاہد رحمہ اللہ کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا: یہ صدقہ کرنے والے آدمی کی طرح ہے جو اپنے مال میں سے نکالتا ہے۔ اگر چاہے تو نکالے چاہے تو روک لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8339]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8339 in Urdu