السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1758. -- باب: صيام التطوع والخروج منه قبل تمامه
-- باب: نفلی روزہ رکھنے اور اسے مکمل کرنے سے پہلے توڑ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8343
حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَقَالَ:" أَعِنْدَكِ شَيْءٌ؟" قُلْتُ: لَا، قَالَ:" إِذًا أَصُومُ" قَالَتْ: وَدَخَلَ عَلَيَّ يَوْمًا آخَرَ فَقَالَ:" أَعِنْدَكِ شَيْءٌ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" إِذًا أُفْطِرُ وَإِنْ كُنْتُ فَرَضْتُ الصَّوْمَ" وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور فرمایا: ”کیا تیرے پاس کچھ ہے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں روزہ رکھتا ہوں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس کچھ ہے؟“ تو میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں آج افطار کر لیتا ہوں اگرچہ آج میں نے روزے کو واجب کر لیا تھا۔“
یہ سند صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8343]
یہ سند صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8343]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الطيالسي»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8343 in Urdu