السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1758. -- باب: صيام التطوع والخروج منه قبل تمامه
-- باب: نفلی روزہ رکھنے اور اسے مکمل کرنے سے پہلے توڑ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8348
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ ابْنِ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ جَدَّتِهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا، قَالَتْ: أَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي فَشَرِبْتُ وَكُنْتُ صَائِمَةً فَكَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ فَضْلَ ⦗٤٥٩⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً فَكَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ فَضْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا:" أَكُنْتِ تَقْضِينَ عَنْكِ شَيْئًا؟" فَقُلْتُ: لَا قَالَ:" فَلَا يَضُرُّكِ" هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي الْوَلِيدِ قَالَ: عَنْ هَارُونَ ابْنِ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا:" أَكُنْتِ تَقْضِينَ عَنْكِ شَيْئًا؟" قَالَتْ: لَا، قَالَ:" فَلَا يَضُرُّكِ" قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: حَدَّثَنَا حَدِيثَ سِمَاكٍ مِنْ كِتَابِهِ.
سماک ام ہانی رضی اللہ عنہا کے پوتے سے بیان کرتے ہیں اور وہ اپنی دادی سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے سنا، وہ کہتی ہیں کہ فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پی لیا۔ پھر مجھے دے دیا تو میں نے اس سے پی لیا حالانکہ میں روزے سے تھی۔ میں نے ناپسند کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے ہوئے کو لوٹاؤں۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی تو میں نے ناپسند جانا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے ہوئے کو واپس لوٹاؤں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”کیا تو قضا کر رہی تھی اپنی طرف سے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کوئی نقصان نہیں۔“
(ابو ولید کہتے ہیں کہ ہارون نے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے حوالے سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”کیا تو کسی کی قضا دے رہی تھی؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تجھے کوئی نقصان نہیں ہے۔“) [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8348]
(ابو ولید کہتے ہیں کہ ہارون نے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے حوالے سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”کیا تو کسی کی قضا دے رہی تھی؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تجھے کوئی نقصان نہیں ہے۔“) [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8348]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظرقبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8348 in Urdu