السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1758. -- باب: صيام التطوع والخروج منه قبل تمامه
-- باب: نفلی روزہ رکھنے اور اسے مکمل کرنے سے پہلے توڑ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8350
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَجَلَسَتْ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمُّ هَانِئٍ عَنْ يَمِينِهِ، قَالَ: فَجَاءَتِ الْوَلِيدَةُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ فَنَاوَلَتْهُ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهُ أُمَّ هَانِئٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ، فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ: لَقَدْ أَفْطَرْتُ وَكُنْتُ صَائِمَةً، فَقَالَ لَهَا:" أَكُنْتِ تَقْضِينَ شَيْئًا؟" قَالَتْ: لَا. قَالَ:" فَلَا يَضُرُّكِ إِنْ كَانَ تَطَوُّعًا".
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ فتح مکہ کے دن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب بیٹھ گئیں اور سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب، تو ایک بچی برتن میں پانی لائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا اور سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کو دے دیا، تو انہوں نے اس میں سے پیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو روزے سے تھی، میں نے افطار کر لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تو قضا دے رہی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تجھے کوئی نقصان نہیں اگر نفل تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8350]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8350 in Urdu