السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1759. -- باب: التخيير في القضاء إن كان صومه تطوعا
-- باب: اگر روزہ نفلی ہو تو اس کی قضا کے سلسلے میں اختیار دیے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8361
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ هَارُونَ ابْنِ بِنْتِ أُمِّ هَانِئٍ أَوِ ابْنِ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَنَاوَلَنِي فَضْلَ شَرَابِهِ فَشَرِبْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَكَ، فَقَالَ:" إِنْ كَانَ قَضَاءً مِنْ رَمَضَانَ فَصُومِي يَوْمًا مَكَانَهُ وَإِنْ كَانَ تَطَوُّعًا فَإِنْ شِئْتِ فَاقْضِيهِ وَإِنْ شِئْتِ فَلَا تَقْضِيهِ".
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن داخل ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بچا ہوا پانی مجھے دیا تو میں نے اسے پی لیا، پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو صائمہ تھی مگر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچا ہوا پانی واپس کرنا پسند نہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر رمضان کے روزوں کی قضا تھی تو اس کے عوض ایک روزہ رکھ اور اگر نفلی روزہ تھا تو پھر تیری مرضی ہے کہ چاہے تو قضا دے یا نہ دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8361]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8361 in Urdu