🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1766. -- باب: فضل يوم عاشوراء
-- باب: یومِ عاشوراء کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8399
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَهِشَامٌ، وَمَهْدِيٌّ، قَالَ حَمَّادٌ: وَمَهْدِيٌّ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ وَقَالَ هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِهِ فَغَضِبَ حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: رَضِينَا بِاللهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِكَ نَبِيًّا أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ غَضَبِ اللهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُرَدِّدُ ذَلِكَ حَتَّى سَكَنَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ" أَوْ قَالَ:" مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ بِمَنْ يصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا، فَقَالَ:" وَمَنْ يَطِيقُ ذَلِكَ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ بِمَنْ يفْطِرُ يَوْمَيْنِ وَيَصُومُ يَوْمًا، فَقَالَ:" لَوَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَمَا تَقُولُ فِي صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ، فَقَالَ:" ⦗٤٧٤⦘ ذَلِكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ وَأُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، فَقَالَ:" ذَلِكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا تَقُولُ فِي صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، قَالَ:" إِنِّي لَأَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا تَقُولُ فِي صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ، قَالَ:" إِنِّي لَأَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهَا وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ وَمِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ.
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس روزے کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور غصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ظاہر ہو رہا تھا، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: «رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا» ”ہم راضی ہو گئے اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر، میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اللہ اور رسول کے غصے سے۔“ تو عمر رضی اللہ عنہ یہ بات بار بار لوٹاتے رہے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، تو کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اس آدمی کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں جو پورا سال روزہ رکھتا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ افطار کیا۔“ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے بارے میں کیا حکم ہے جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ فرمایا: ”کون ہے جو اس کی طاقت رکھتا ہے؟“ پھر انہوں نے کہا: وہ کیسا ہے جو دو دن افطار کرتا ہے اور ایک دن روزہ رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری خواہش ہے کہ مجھے اس کی طاقت دی جاتی۔“ پھر انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ پیر کے روزے کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس میں میں پیدا ہوا اور مجھ پر شریعت نازل ہوئی۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میرے بھائی داؤد کا روزہ ہے۔“ پھر انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یومِ عاشور کے روزے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ پر امید رکھتا ہوں کہ وہ ایک سال کے گناہ معاف کر دے گا۔“ پھر انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جس نے یومِ عرفہ کا روزہ رکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ پہلے سال کے گناہ اور آنے والے سال کے گناہ معاف فرما دیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8399]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8399 in Urdu