🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
189. -- باب: فرض الغسل
-- باب: غسل کے فرائض کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 850
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَسْبَاطُ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ عَجْرَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" لَا يُعِيدُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ جُنُبًا. يَعْنِي الْمَضْمَضَةَ وَالِاسْتِنْشَاقَ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عُثْمَانَ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ: لَيْسَ لِعَائِشَةَ بِنْتِ عَجْرَدٍ، إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَثَرُهُ الَّذِي يَعْتَمِدُ عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ عَجْرَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَعَمَ أَنَّ هَذَا الْأَثَرَ ثَابِتٌ يُتْرَكُ لَهُ الْقِيَاسُ وَهُوَ يَعِيبُ عَلَيْنَا أَنْ نَأْخُذَ بِحَدِيثِ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعُثْمَانُ، وَعَائِشَةُ غَيْرُ مَعْرُوفَيْنِ بِبَلَدِهِمَا، وَكَيْفَ يَجُوزُ لِأَحَدٍ أَنْ يُثَبِّتَ ضَعِيفًا مَجْهُولًا، وَيُوَهِّنَ قَوِيًّا مَعْرُوفًا. قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ عَجْرَدٍ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ لَيْسَ بِحُجَّةٍ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ دوبارہ (غسل) نہیں کرے گا مگر جنبی ہوا تو کرے گا، یعنی کلی اور ناک میں پانی چڑھائے گا۔
(ب) علی بن عمر فرماتے ہیں کہ عائشہ بنت عجرد کی اس حدیث کے علاوہ کوئی روایت نہیں۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کا اثر وہ ہے جس کی سند عثمان بن راشد عن عائشہ بنت عجرد عن ابن عباس رضی اللہ عنہما ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ حدیث ثابت ہے، اس کی وجہ سے قیاس کو ترک کر دیا جائے گا اور یہ ہم پر عیب ہے کہ ہم حدیث بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا کو لیں۔
(د) عثمان اور عائشہ غیر معروف ہیں اور ان کے شہروں کا علم نہیں۔ کسی کے لیے یہ کیسے جائز ہے کہ وہ ضعیف مجہول کو ثابت قرار دے اور قوی معروف کو کمزور کہے۔ شیخ کہتے ہیں: اس حدیث کو حجاج بن ارطاۃ عن عائشہ بنت عجرد روایت کیا گیا ہے، حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 850]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الدار قطني 1/115»

الحكم على الحديث: ضعيف

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 850 in Urdu