السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1811. -- باب: المعتكف يخرج إلى باب المسجد ولا يخرج عنه قدميه وتزوره زوجته ويتحدث بما أحب ما لم يكن إثما.
-- باب: معتکف کا مسجد کے دروازے تک نکلنا جبکہ وہ اپنے دونوں قدم اس سے باہر نہ نکالے، اور اس کی بیوی کا اس سے ملاقات کے لیے آنا، اور معتکف کا اپنی پسند کی گفتگو کرنا جب تک کہ وہ گناہ کی بات نہ ہو۔
حدیث نمبر: 8598
أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ بْنِ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ بِنَيْسَابُورَ أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ شَرِيكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا ابْنُ عُفَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ مُسَافِرٍ يَعْنِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ أَنَّ صَفِيَّةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ ثُمَّ قَامَتْ لِتَنْقَلِبَ فَقَامَ مَعَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْلِبُهَا حَتَّى إِذَا بَلَغَ قَرِيبًا مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ عِنْدَ بَابِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَفَذَا، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّمَا هِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ" قَالَا: سُبْحَانَ اللهِ يَا رَسُولَ اللهِ وَكَبُرَ عَلَيْهِمَا ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنَ ابْنِ آدَمَ مَبْلَغَ الدَّمِ وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُفَيْرٍ وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے کے اعتکاف میں تھے۔ وہ مسجد میں تھے، پھر وہ جانے کے لیے کھڑی ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ کھڑے ہوئے حتیٰ کہ مسجد کے دروازے کے قریب پہنچے جو بابِ امِ سلمہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے دو انصاری گزرے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا، پھر وہ آگے بڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھئی ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ہیں۔“ ان دونوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ!» ”سبحان اللہ!“ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کیا! یہ بات ان پر گراں گزری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک شیطان انسان کے ساتھ خون کی گردش تک پہنچ جاتا ہے، اس لیے میں ڈر گیا کہ تمہارے دلوں میں کوئی بات نہ آ جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8598]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8598 in Urdu