السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1819. -- باب: وجوب الحج مرة واحدة
-- باب: زندگی میں ایک بار حج کے واجب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8617
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللهَ كَتَبَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ" فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَقَالَ: أَفِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" لَوْ قُلْتُهَا لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهَا وَلَمْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْمَلُوا بِهَا، الْحَجُّ مَرَّةٌ فَمَنْ زَادَ فَتَطَوُّعٌ". تَابَعَهُ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سِنَانٍ، وَقَالَ عَقِيلٌ: عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سِنَانٍ وَهُوَ أَبُو سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ، وَفِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: مُتْعَتُنَا هَذِهِ يَا رَسُولَ اللهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ:" لَا بَلْ لِلْأَبَدِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”اے لوگو! اللہ نے تم پر حج فرض فرما دیا ہے“ تو اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کرنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہر سال (حج فرض ہے)؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں کہہ دوں تو (ہر سال حج کرنا) واجب ہو جائے گا اور اگر واجب ہو جائے تو تم کر نہ سکو گے اور نہ ہی اس کی استطاعت تم میں ہو گی، حج ایک مرتبہ (فرض) ہے، جو زائد کر لے تو وہ نفلی ہے۔“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ فائدہ ہمارے لیے صرف اس سال ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8617]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ فائدہ ہمارے لیے صرف اس سال ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8617]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ سنن ابي داود 1721۔ نسائي 2620»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8617 in Urdu