السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1831. -- باب: الحج عن الميت وأن الحجة الواجبة من رأس المال
-- باب: میت کی طرف سے حج کرنے اور اس بات کا بیان کہ واجب حج (کا خرچ) کل ترکے سے ادا کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 8673
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا صَفْوَانُ، عَنِ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ زُرَيْقٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ، عَنْ أَبِي الْغَوْثِ بْنِ الْحُصَيْنِ الْخَثْعَمِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبِي أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللهِ فِي الْحَجِّ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَتَمَالَكُ عَلَى الرَّاحِلَةِ فَمَا تَرَى أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ حُجَّ عَنْهُ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَكَذَلِكَ مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِينَا وَلَمْ يُوصِ بِحَجٍّ فَنَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ وَتُؤْجَرُونَ" قَالَ: وَيُتَصَدَّقُ عَنْهُ وَيُصَامُ عَنْهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ وَالصَّدَقَةُ أَفْضَلُ وَكَذَلِكَ فِي النُّذُورِ وَالْمَشْيِ إِلَى الْمَسْجِدِ" ⦗٥٤٩⦘ إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.
ابوغوث بن حصین خثعمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرے والد کو اللہ کے فریضۂ حج نے اس حال میں پایا ہے کہ وہ بہت بوڑھے ہیں اور اونٹنی پر سوار نہیں رہ سکتے، تو کیا خیال ہے، میں ان کی طرف سے حج کرلوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، ان کی طرف سے حج کرو۔“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اسی طرح ہمارے اہل و عیال میں سے جو بھی فوت ہو جائے جب کہ اس نے حج کی وصیت نہ کی ہو تو بھی اس کی طرف سے حج کیا جائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اور تمہیں اجر ملے گا“، میں نے کہا: ”ان کی طرف سے صدقہ کیا جائے اور روزہ رکھا جائے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! اور صدقہ افضل ہے، اسی طرح نذریں اور مسجد کی طرف چل کر جانا بھی۔“
اس کی سند ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8673]
اس کی سند ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8673]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8673 in Urdu