السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1832. -- باب: من ليس له أن يحج عن غيره
-- باب: اس شخص کا بیان جسے دوسرے کی طرف سے حج کرنے کا حق نہیں۔
حدیث نمبر: 8676
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا أَبُو يُوسُفَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يُلَبِّي عَنْ شُبْرُمَةَ، فَقَالَ:" مَنْ شُبْرُمَةُ؟" فَقَالَ: أَخِي أَوْ ذُو قَرَابَةٍ لِي، فَقَالَ:" حَجَجْتَ قَطُّ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْ نَفْسِكِ ثُمَّ حُجَّ عَنْهُ" وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ وَمُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ وَرَوَاهُ غُنْدَرٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَمَنْ رَوَاهُ مَرْفُوعًا حَافَظٌ ثِقَةٌ فَلَا يَضُرُّهُ خِلَافُ مَنْ خَالَفَهُ وَعَزْرَةُ هَذَا هُوَ عَزْرَةُ بْنُ يَحْيَى..
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو شبرمہ کی طرف سے تلبیہ کہتے ہوئے سنا تو پوچھا: ”شبرمہ کون ہے؟“ اس نے کہا: میرا بھائی یا قریبی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو نے کبھی حج کیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر یہ حج اپنی طرف سے کر، پھر اس کی طرف سے بعد میں کرنا۔“
غندر نے اسے سعید بن ابی عروبہ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف روایت کیا ہے، لیکن جس نے اسے مرفوع روایت کیا ہے وہ ثقہ حافظ ہے، لہٰذا اس کی مخالفت کرنے والے کی مخالفت اسے نقصان نہیں دیتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8676]
غندر نے اسے سعید بن ابی عروبہ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف روایت کیا ہے، لیکن جس نے اسے مرفوع روایت کیا ہے وہ ثقہ حافظ ہے، لہٰذا اس کی مخالفت کرنے والے کی مخالفت اسے نقصان نہیں دیتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8676]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8676 in Urdu