السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1833. -- باب: الرجل يحرم بالحج تطوعا ولم يكن حج حجة الإسلام أو يحرم إحراما مطلقا ويقول: إحرامي كإحرام فلان وكان فلان مهلا بالحج فيكون حاجا ويجزئه عن حجة الإسلام
-- باب: اس شخص کا بیان جو نفلی حج کا احرام باندھے حالانکہ اس نے اسلام کا فرض حج نہ کیا ہو، یا مطلق طور پر احرام باندھے اور کہے: ”میرا احرام فلاں شخص کے احرام جیسا ہے“ اور وہ فلاں شخص حج کا احرام باندھے ہوئے ہو، تو وہ حاجی شمار ہوگا اور یہ اسے فرض حج کی طرف سے کفایت کر جائے گا۔
حدیث نمبر: 8690
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ لَمْ يَحُجَّ فَحَجَّ يَنْوِي النَّافِلَةَ أَوْ حَجَّ عَنْ رَجُلٍ أَوْ حَجَّ عَنْ نَذْرِهِ قَالَ:" هَذِهِ حَجَّةُ الْإِسْلَامِ ثُمَّ يَحُجُّ عَنِ الرَّجُلِ بَعْدُ إِنْ شَاءَ وَعَنْ نَذْرِهِ".
عطا رحمہ اللہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں: جس نے حج نہیں کیا اور وہ حج کرتا ہے تو نفلی حج کی نیت کر لیتا ہے یا کسی اور شخص کی طرف سے حج کرنے کی نیت کرتا ہے یا اپنی نذر کو پورا کرنے کے لیے حج کی نیت کرتا ہے تو یہ اس کا فرض حج ہی ہوگا۔ اس کے بعد اگر وہ چاہے تو کسی شخص کی طرف سے یا نذر کو پورا کرنے کے لیے حج کر لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8690]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ مسند شافعي 507»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8690 in Urdu