🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1839. -- باب: من اعتمر في السنة مرارا
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے ایک سال میں کئی بار عمرہ کیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8725
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ أنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَقْبَلَتْ مُهِلَّةً بِعُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بِسَرِفَ عَرَكَتْ فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَهَا تَبْكِي فَقَالَ:" مَا يُبْكِيكِ؟" قَالَتْ: حِضْتُ وَلَمْ أَحْلِلْ وَلَمْ أَطُفْ ⦗٥٦٢⦘ بِالْبَيْتِ، وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَى الْحَجِّ الْآنَ، قَالَ:" فَإِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ" فَفَعَلَتْ وَوَقَفَتِ الْمَوَاقِفَ حَتَّى إِذَا طَهُرَتْ طَافَتْ بِالْكَعْبَةِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ قَالَ:" قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ جَمِيعًا" فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَجَجْتُ، قَالَ:" فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ" وَذَلِكَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ عَنِ اللَّيْثِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَانَتْ عُمْرَتُهَا فِي ذِي الْحِجَّةِ، ثُمَّ سَأَلَتْهُ أَنْ يُعْمِرَهَا فَأَعْمَرَهَا فِي ذِي الْحِجَّةِ وَكَانَتْ هَذِهِ عُمْرَتَانِ فِي شَهْرٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عمرے کے لیے تلبیہ کہتی ہوئی آئیں حتیٰ کہ جب سرف مقام پر پہنچیں تو حائضہ ہوگئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے تو وہ رو رہی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تجھے کیا بات رلا رہی ہے؟“ کہنے لگیں کہ میں حائضہ ہوگئی ہوں اور ابھی میں حلال بھی نہیں ہوئی اور نہ ہی میں نے بیت اللہ کا طواف کیا ہے اور لوگ اب حج کی طرف جا رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایسا معاملہ ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے بناتِ آدم پر مقرر کر رکھا ہے، لہٰذا تو غسل کرلے اور حج کا تلبیہ کہہ۔“ تو انھوں نے ایسا ہی کیا اور تمام جگہوں پر ٹھہریں حتیٰ کہ جب وہ پاک ہوئیں تو کعبہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تو حج اور عمرہ دونوں سے حلال ہوگئی ہے۔“ تو کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے دل میں کچھ بات ہے کہ میں نے حج کرنے سے پہلے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبدالرحمن! اس کو لے جا اور تنعیم سے عمرہ کروا۔“ اور یہ لیلہ حصبہ کی بات ہے (جس رات آپ وادی محصب میں ٹھہرے تھے)
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کا پہلا عمرہ ذوالحجہ میں تھا، پھر انھوں نے عمرہ کروانے کا مطالبہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں عمرہ ذوالحجہ ہی میں عمرہ کروایا تو یہ دو عمرے ایک ہی ماہ میں تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8725]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1213۔ نسائي 2763»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8725 in Urdu