السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1842. -- باب: إدخال الحج على العمرة
-- باب: عمرے پر حج کو داخل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 8748
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حَيِّدٍ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ حَيَّانَ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ، قَالَ: أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ فَأَدْرَكْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: إِنِّي أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ فأَسْتَطِيعُ أَنْ أَضُمَّ إِلَيْهِ عُمْرَةً، قَالَ:" لَا لَوْ كُنْتَ أَهْلَلْتَ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ أَرَدْتَ أَنْ تَضُمَّ إِلَيْهَا الْحَجَّ ضَمَمْتَهُ، وَإِذَا بَدَأْتَ بِالْحَجِّ فَلَا تَضُمَّ إِلَيْهِ عُمْرَةً"، قَالَ: فَمَا أَصْنَعُ إِذَا أَرَدْتُ ذَلِكَ؟ قَالَ:" صُبَّ عَلَيْكَ إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ ثُمَّ تُحْرِمُ بِهِمَا جَمِيعًا فَتَطُوفُ لَهُمَا طَوَافَيْنِ" كَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مَنْصُورٍ وَأَبُو نَصْرٍ هَذَا غَيْرُ مَعْرُوفٍ.
ابونصر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حج کے لیے احرام باندھا، پھر میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پا لیا تو پوچھا: میں نے حج کی نیت سے احرام باندھا ہے تو کیا میں اس کے ساتھ عمرہ شامل کر سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا: نہیں! اگر تو عمرہ کا احرام باندھتا اور پھر تو اس کے ساتھ حج کو شامل کرنا چاہتا تو کر لیتا اور جب تو نے حج کے ساتھ ابتدا کی ہے تو پھر عمرہ ساتھ نہ ملاؤ۔ میں نے پوچھا: پھر میں کیا کروں اگر میں دونوں ہی کرنا چاہوں؟ انہوں نے کہا: اپنے اوپر پانی کا ایک لوٹا بہا اور پھر دونوں کا اکٹھا احرام باندھ اور دو طواف کر۔
یہ ابونصر غیر معروف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8748]
یہ ابونصر غیر معروف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8748]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ دارقطني 2/ 265»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8748 in Urdu