السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1846. -- باب: القارن يهريق دما
-- باب: حجِ قران کرنے والا قربانی کا جانور ذبح کرے۔
حدیث نمبر: 8782
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الْأَزْهَرِ، وَحَمْدَانُ السُّلَمِيُّ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْر، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: خَرَجَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُرِيدُ الْحَجَّ زَمَنَ نَزَلِ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ النَّاسَ كَائِنٌ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ، فَقَالَ:" {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: ٢١] إِذَنْ أَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً"، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَهْرِ الْبَيْدَاءِ" قَالَ: مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلَّا وَاحِدٌ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي" وَأُهْدِي هَدْيًا اشْتَرَاهُ بِقُدَيْدٍ، فَانْطَلَقَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ وَلَمْ يَنْحَرْ وَلَمْ يَحْلِقْ وَلَمْ يُقَصِّرْ وَلَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ كَانَ حُرِمَ مِنْهُ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ نَحَرَ وَحَلَقَ ثُمَّ رَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَهُ لِلْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ بِطَوَافِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ:" هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ.
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اس زمانے میں حج کے لیے نکلے جب حجاج، ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے لڑنے کے لیے مکہ پہنچا ہوا تھا تو ان کو کہا گیا کہ لوگوں کے درمیان لڑائی ہونے والی ہے اور ہمیں خدشہ ہے کہ وہ آپ کو روک دیں گے تو فرمانے لگے: تمہارے لیے ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بہترین نمونہ ہے)، میں ویسے ہی کروں گا، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ واجب کر لیا ہے، پھر نکلے حتیٰ کہ بیداء پر چڑھے تو کہنے لگے: حج و عمرہ کا معاملہ تو ایک سا ہی ہے، میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے حج کے ساتھ عمرہ بھی واجب کر لیا ہے اور انہوں نے قدید سے ایک قربانی بھی خرید لی اور آگے بڑھے، حتیٰ کہ مکہ میں پہنچے۔ بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا اور مزید کچھ نہ کیا، قربانی نہ کی، نہ ہی سر منڈوایا اور نہ ہی بال کٹوائے اور کسی چیز سے حلال نہیں ہوئے جو ان پر حرام تھی حتیٰ کہ جب یومِ نحر آیا تو قربانی کی اور سر منڈوایا، پھر دیکھا کہ انہوں نے پہلے طواف کے ساتھ حج و عمرہ کا طواف مکمل کر لیا ہے، پھر فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8782]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1713۔ مسلم 1230»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8782 in Urdu