🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1854. -- باب: ما يدل على أن النبي صلى الله عليه وسلم أحرم إحراما مطلقا ينتظر القضاء، ثم أمر بإفراد الحج، ومضى في الحج
-- باب: اس بات کی دلیل کہ نبی ﷺ نے مطلق احرام باندھا اور حکمِ الٰہی کے منتظر رہے، پھر آپ ﷺ نے حجِ افراد کا حکم دیا، اور خود بھی حجِ افراد ادا فرمایا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8822
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مُحَاضِرٌ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْكُرُ حَجًّا وَلَا عُمْرَةً، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةَ النَّفْرِ، حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَلْقَى عَقْرَى مَا أَرَاهَا إِلَّا حَابِسَتَكُمْ"، قَالَ:" هَلْ كُنْتِ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ؟"، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" فَانْفِرِي"، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنِّي لَمْ أَكُنْ أَهْلَلْتُ، قَالَ:" فَاعْتَمِرِي مِنَ التَّنْعِيمِ"، قَالَ: فَخَرَجَ مَعَهَا أَخُوهَا، قَالَ: فَلَقِيَنَا مُدْلِجًا، فَقَالَ:" مَوْعِدُكَ كَذَا وَكَذَا"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدٍ، يُقَالُ: إِنَّهُ ابْنُ يَحْيَى عَنْ مُحَاضِرٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہم حج یا عمرہ کا ذکر نہیں کرتے تھے۔ جب ہم پہنچے تو ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال ہونے کا حکم دے دیا، تو جب واپسی کی رات تھی صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گنجی اور لنگڑی کہیں کی! لگتا ہے یہ تمہیں روک دے گی“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو نے یومِ نحر کو طواف کیا تھا؟“ اس نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پس تو نکل“۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے عمرہ کا تلبیہ نہیں (پکارا)، کیا (میں محروم رہی)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تنعیم سے عمرہ کر لے“، تو ان کے ساتھ ان کا بھائی گیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں رات کے وقت ملے اور فرمایا: ”تمہاری جگہ فلاں فلاں ہے“۔
(ب) صحیح بخاری میں راوی محمد سے روایت ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور صرف حج کا تلبیہ کہتے تھے“۔
(ج) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہم حج اور عمرہ کے تلبیہ کا نام نہیں لیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8822]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1682»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8822 in Urdu