السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1854. -- باب: ما يدل على أن النبي صلى الله عليه وسلم أحرم إحراما مطلقا ينتظر القضاء، ثم أمر بإفراد الحج، ومضى في الحج
-- باب: اس بات کی دلیل کہ نبی ﷺ نے مطلق احرام باندھا اور حکمِ الٰہی کے منتظر رہے، پھر آپ ﷺ نے حجِ افراد کا حکم دیا، اور خود بھی حجِ افراد ادا فرمایا۔
حدیث نمبر: 8825
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَيَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، قَالَ: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ طَاوُسٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، وَهِشَامُ بْنُ حُجَيْرٍ، سَمِعُوا طَاوُسًا، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ لَا يُسَمِّي حَجًّا وَلَا عُمْرَةً، يَنْتَظِرُ الْقَضَاءَ، فَنَزَلَ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَهُوَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ مِنْ كَانَ مِنْهُمْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً، وَقَالَ:" لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، لَمَا سُقْتُ الْهَدْيَ، وَلَكِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَسُقْتُ هَدْيِي، فَلَيْسَ لِي مَحِلٌّ إِلَّا مَحِلَّ هَدْيِي"، فَقَامَ إِلَيْهِ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اقْضِ ⦗١٠⦘ لَنَا قَضَاءَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ، أَعُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ لِلْأَبَدِ دَخَلْتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"، قَالَ: فَدَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنَ الْيَمَنِ، فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بِمَ أَهْلَلْتَ؟"، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: لَبَّيْكَ إِهْلَالَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: الْآخَرُ لَبَّيْكَ حَجَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج و عمرہ کا نام لیے بغیر مدینہ سے نکلے اور اللہ کی طرف سے فیصلے کا انتظار کرتے رہے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا و مروہ کے درمیان تھے تو آپ پر فیصلہ نازل ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ جس نے حج کا احرام باندھا ہے اور اس کے پاس قربانی نہیں ہے تو وہ اس کو عمرہ ہی بنا لے اور فرمایا: ”اگر مجھے اس معاملے کا پہلے علم ہو جاتا جس کا بعد میں ہوا ہے تو میں قربانی نہ لے کر آتا، لیکن میں نے سر کی تلبید کی ہے اور اپنی قربانی لے کر آیا ہوں، لہٰذا میرے لیے حلال ہونے کی جگہ قربانی کے حلال ہونے کی جگہ کے علاوہ نہیں ہے۔“ تو سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں فیصلہ کن بات بتائیں گویا کہ ہم آج ہی پیدا ہوئے ہیں، کیا یہ عمرہ صرف اس سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے، قیامت تک عمرہ حج میں شامل ہو گیا ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تم نے کیا تلبیہ کہا تھا؟“ تو انہوں نے عرض کیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم والا تلبیہ کہا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8825]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ مسند شافعي 504»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8825 in Urdu