السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1855. -- باب: من اختار القران وزعم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان قارنا
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے حجِ قران کو اختیار کیا اور ان کا یہ گمان ہے کہ نبی ﷺ حجِ قران کرنے والے (قارن) تھے۔
حدیث نمبر: 8836
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قُتَيْبَةُ: ثنا، وَقَالَ، إِسْحَاقُ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ جَالِسٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَإِذَا أُنَاسٌ فِي الْمَسْجِدِ يُصَلُّونَ صَلَاةَ الضُّحَى قَالَ: فَسَأَلْنَاهُ عَنْ صَلَاتِهِمْ، فَقَالَ: بِدْعَةٌ، قَالَ: ثُمَّ قَالُوا لَهُ: كَمِ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ:" أَرْبَعًا إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ"، قَالَ: فَكَرِهْنَا أَنْ نُكَذِّبَهُ وَنَرُدَّ عَلَيْهِ، قَالَ: وَسَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا خَلْفَ الْحُجْرَةِ، قَالَ: فَقَالَ عُرْوَةُ: يَا أُمَّهْ أَلَمْ تَسْمَعِي إِلَى مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟، قَالَتْ:" مَا يَقُولُ؟"، قَالَ: يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ إِحْدَاهُنَّ فِي ⦗١٧⦘ رَجَبٍ، قَالَتْ:" يَرْحَمُ اللهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَةً إِلَّا وَهُوَ شَاهِدٌ، وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ وَلَيْسَ فِيهَا مَا فِي رِوَايَةِ أَبِي إِسْحَاقَ.
مجاہد کہتے ہیں کہ میں اور عروہ بن زبیر مسجد میں داخل ہوئے تو وہاں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ مسجد میں چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے، تو ہم نے ان سے لوگوں کی نماز کے بارے میں دریافت کیا تو وہ کہنے لگے کہ یہ بدعت ہے، پھر انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے؟ کہنے لگے: چار، ایک رجب میں، تو ہم نے ناپسند کیا کہ ہم اس کو جھٹلائیں یا اس کا رد کریں اور ہم نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز حجرے کے پیچھے سے سنی تو عروہ نے کہا: اے اماں جان! کیا آپ نے سنا نہیں جو ابوعبدالرحمن (رضی اللہ عنہما) نے کہا ہے؟ کہنے لگیں: کیا کہا ہے؟ تو انہوں نے کہا: وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے، ان میں سے ایک عمرہ رجب میں کیا تھا، تو وہ کہنے لگیں: اللہ ابوعبدالرحمن (رضی اللہ عنہما) پر رحم فرمائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی عمرہ کیا وہ اس میں ان کے شریک تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8836]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1685۔ مسلم 1225»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8836 in Urdu