السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1855. -- باب: من اختار القران وزعم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان قارنا
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے حجِ قران کو اختیار کیا اور ان کا یہ گمان ہے کہ نبی ﷺ حجِ قران کرنے والے (قارن) تھے۔
حدیث نمبر: 8844
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، حدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ؟، قَالَ:" إِنِّي قَلَّدْتُ هَدْيِي، وَلَبَّدْتُ رَأْسِي فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ کیا وجہ ہے کہ لوگ حلال ہو گئے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عمرہ سے حلال نہیں ہوئے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنی قربانی کو قلادہ پہنایا ہے اور سر کو لیپ دیا ہے، لہٰذا میں اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتا، جب تک حج سے حلال نہ ہو جاؤں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8844]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8844 in Urdu