السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1862. -- باب: ميقات أهل العراق
-- باب: اہلِ عراق کے میقات کا بیان۔
حدیث نمبر: 8915
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ مُسْلِمٌ، وَسَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، فَرَاجَعْتُ عَطَاءً فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَعَمُوا لَمْ يُوَقِّتْ ذَاتَ عِرْقٍ وَلَمْ يَكُنْ أَهْلُ مَشْرِقٍ حِينَئِذٍ. قَالَ: كَذَلِكَ سَمِعْنَا أَنَّهُ وَقَّتَ ذَاتَ عِرْقٍ، أَوِ الْعَقِيقَ لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ. قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ عِرَاقٌ وَلَكِنْ لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ وَلَمْ يَعْزُهُ إِلَى أَحَدٍ دُونَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنَّهُ يَأْبَى إِلَّا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَهُ، هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَقَدْ رَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَضَعْفُهُ ظَاهِرٌ عَنْ عَطَاءٍ وَغَيْرِهِ فَوَصَلَهُ.
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عطاء رحمہ اللہ سے ملا اور ان سے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ذات عرق کو مقرر نہیں کیا اور ان دنوں اہل مشرق نہیں تھے، تو وہ کہنے لگے کہ ہم نے ایسے ہی سنا ہے کہ ”انہوں نے ذات عرق یا عقیق کو اہل مشرق کے لیے متعین کیا ہے“، کہتے ہیں کہ عراق نہیں تھا لیکن اہل مشرق کے لیے مقرر ہوا اور اس کو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہی منسوب کیا۔
عطاء سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک یہی صحیح ہے کہ یہ مرسل ہے، اور حجاج بن ارطاۃ نے، جن کا ضعف ظاہر ہے، اسے عطاء وغیرہ سے موصول بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8915]
عطاء سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک یہی صحیح ہے کہ یہ مرسل ہے، اور حجاج بن ارطاۃ نے، جن کا ضعف ظاہر ہے، اسے عطاء وغیرہ سے موصول بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8915]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ شافعي 524»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8915 in Urdu