السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1868. -- باب: من استحب الإحرام من دويرة أهله ومن استحب التأخير إلى الميقات خوفا من أن لا يضبط
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے اپنے گھر سے احرام باندھنے کو مستحب قرار دیا اور جنہوں نے احرام کی پابندیاں نہ سنبھال سکنے کے خوف سے میقات تک تاخیر کرنے کو مستحب سمجھا۔
حدیث نمبر: 8928
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَمَةَ الْمُرَادِيِّ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا قَوْلُهُ: {وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ} [البقرة: ١٩٦] ؟ قَالَ: أَنْ تُحْرِمَ مِنْ دُوَيْرَةِ أَهْلِكَ وَرُوِيَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا وَفِيهِ نَظَرٌ.
عبداللہ بن سلمہ مرادی فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾ [سورة البقرة: 196] کا کیا معنی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کا مطلب ہے کہ اپنے گھر سے ہی احرام باندھو۔
یہ روایت ابوسلمہ عن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سند سے مرفوعاً بھی مروی ہے، اور اس میں نظر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8928]
یہ روایت ابوسلمہ عن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سند سے مرفوعاً بھی مروی ہے، اور اس میں نظر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8928]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ مستدرك حاكم 2/ 303»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8928 in Urdu