السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1868. -- باب: من استحب الإحرام من دويرة أهله ومن استحب التأخير إلى الميقات خوفا من أن لا يضبط
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے اپنے گھر سے احرام باندھنے کو مستحب قرار دیا اور جنہوں نے احرام کی پابندیاں نہ سنبھال سکنے کے خوف سے میقات تک تاخیر کرنے کو مستحب سمجھا۔
حدیث نمبر: 8931
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَسَوِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْهَيَّاجُ بْنُ بِسْطَامٍ الْحَنْظَلِيُّ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ السَّائِبِ ⦗٤٦⦘ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَبِي سَوْرَةَ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيَسْتَمْتِعْ أَحَدُكُمْ بِحِلِّهِ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا يَعْرِضُ فِي إِحْرَامِهِ" هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ وَاصِلُ بْنُ السَّائِبِ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، قَالَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ، وَرُوِيَ فِيهِ عَنْ عُمَرَ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَهُوَ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَشْهُورٌ وَإِنْ كَانَ الْإِسْنَادُ مُنْقَطِعًا.
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایک اپنے حلال ہونے سے جس قدر فائدہ اٹھا سکتا ہے اٹھا لے کیوں کہ اس کو علم نہیں کہ اس کے احرام میں اس کو کیا پیش آنے والا ہے۔“
یہ سند ضعیف ہے، واصل بن سائب منکر الحدیث ہے، یہ بات امام بخاری وغیرہ نے کہی ہے۔ اس بارے میں سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما سے بھی روایت کیا گیا ہے، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ مشہور ہے اگرچہ اس کی سند منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8931]
یہ سند ضعیف ہے، واصل بن سائب منکر الحدیث ہے، یہ بات امام بخاری وغیرہ نے کہی ہے۔ اس بارے میں سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما سے بھی روایت کیا گیا ہے، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ مشہور ہے اگرچہ اس کی سند منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8931]
تخریج الحدیث: «منكر۔ الشاسي 1057»
الحكم على الحديث: منكر
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8931 in Urdu