السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1872. -- باب: ما يحرم فيه من الثياب
-- باب: جن کپڑوں میں احرام باندھا جائے گا ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 8949
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: انْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ بَعْدَمَا تَرَجَّلَ وَادَّهَنَ وَلَبِسَ إِزَارَهُ وَرِدَاءَهُ هُوَ وَأَصْحَابُهُ وَلَمْ يَنْهَ عَنْ شَيْءٍ مِنَ الْإِزَارِ وَالْأَرْدِيَةِ تُلْبَسُ إِلَّا الْمُزَعْفَرَ الَّذِي يُرْدَعُ عَلَى الْجِلْدِ حَتَّى أَصْبَحَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ وَقَلَّدَ بَدَنَتَهُ وَذَلِكَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ، فَقَدِمَ مَكَّةَ لِأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحَجَّةِ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ أَجْلِ بُدْنِهِ؛ لِأَنَّهُ قَدْ كَانَ قَلَّدَهَا وَنَزَلَ بِأَعْلَى مَكَّةَ عِنْدَ الْحَجُونِ وَهُوَ مُهِلٌّ بِالْحَجِّ وَلَمْ يَقْرَبِ الْكَعْبَةَ بَعْدَ طَوَافِهِ بِهَا حَتَّى رَجَعَ مِنْ عَرَفَةَ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ يُقَصِّرُوا مِنْ رُءُوسِهِمْ وَيَحِلُّوا، وذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ بَدَنَةٌ قَدْ قَلَّدَهَا وَمَنْ كان مَعَهُ امْرَأَتُهُ فَهِيَ لَهُ حَلَالٌ، وَالطِّيبُ، وَالثِّيَابُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے کنگھی کر کے، تیل لگا کر، ازار اور چادر اوڑھ کر نکلے اور آپ کے صحابہ بھی۔ آپ نے ازار وغیرہ سے کچھ بھی ممنوع قرار نہیں دیا اور نہ ہی چادروں کو پہننے سے منع کیا سوائے زعفرانی چادروں کے۔ حتیٰ کہ ذوالحلیفہ پہنچے تو اپنی سواری پر سوار ہوئے حتیٰ کہ وہ بیداء پر پہنچی تو آپ اور آپ کے ساتھیوں نے تلبیہ کہا اور آپ نے اپنی قربانی کو قلادہ ڈالا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ذوالقعدہ کے ابھی پانچ دن باقی تھے تو ذوالحجہ کی چار تاریخ کو آپ مکہ پہنچے، بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا اور آپ چونکہ قربانی لائے تھے اور اس کو قلادہ پہنایا تھا، حلال نہ ہوئے اور مکہ کے بالائی علاقہ حجون کے پاس ہی رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا ہوا تھا اور آپ کعبہ کا طواف کرنے کے بعد اس کے قریب نہ گئے حتیٰ کہ عرفہ سے واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ ”وہ بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کریں، پھر سر کے بال کٹوائیں اور حلال ہو جائیں“ اور یہ ان کے لیے تھا جو قربانیوں کو قلادہ ڈال کر نہ لائے تھے اور جس کے ساتھ اس کی اہلیہ تھی وہ اس کے لیے حلال تھی اور خوشبو اور کپڑے بھی پہنے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 8949]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1470»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8949 in Urdu