السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1888. -- باب: من استحب ترك التلبية في طواف القدوم، وعلى الصفا والمروة ومن رآها واسعة
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے طواف قدوم میں اور صفا و مروہ پر تلبیہ ترک کرنے کو مستحب سمجھا، اور جنہوں نے اس میں گنجائش دیکھی۔
حدیث نمبر: Q9024
بَابُ مَنِ اسْتَحَبَّ تَرْكَ التَّلْبِيَةِ فِي طَوَافِ الْقُدُومِ، وَعَلَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَمَنْ رَآهَا وَاسِعَةً.
اس شخص کے بیان کا باب جس نے طوافِ قدوم میں اور صفا و مروہ پر تلبیہ ترک کرنے کو مستحب قرار دیا، اور جس نے اس معاملے میں وسعت و گنجائش سمجھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: Q9024]
حدیث نمبر: 9024
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ لَا يُلَبِّي وَهُوَ يَطُوفُ حَوْلَ الْبَيْتِ قَالَ الشَّيْخُ: وَأَمَّا الصَّفَا وَالْمَرْوَةُ فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: الَّذِي رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوُقُوفِ عَلَيْهِمَا دُعَاءٌ وَتَكْبِيرٌ، وَفِي السَّعْيِ بَيْنَهُمَا دُعَاءٌ، فَأَسْتَحِبُّ أَنْ أَفْعَلَ مِنْ هَذَا مَا فَعَلَ مِنْ غَيْرِ أَنْ تَكُونَ التَّلْبِيَةُ بَيْنَهُمَا مَكْرُوهَةً، قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا بَيِّنٌ فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي صِفَةِ حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے تلبیہ نہیں کہتے تھے۔ [صحیح: موطا مالک، 749]
شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ صفا و مروہ کے بارے میں امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان پر ٹھہر کر دعا کرنا اور تکبیر کہنا ہی روایت کیا گیا ہے اور ان دونوں کے درمیان سعی کرتے ہوئے دعا کرنا ہے، تو مجھے بھی یہی پسند ہے کہ میں وہ کام کروں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے، یعنی تلبیہ کو مکروہ کہے بغیر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9024]
شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ صفا و مروہ کے بارے میں امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان پر ٹھہر کر دعا کرنا اور تکبیر کہنا ہی روایت کیا گیا ہے اور ان دونوں کے درمیان سعی کرتے ہوئے دعا کرنا ہے، تو مجھے بھی یہی پسند ہے کہ میں وہ کام کروں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے، یعنی تلبیہ کو مکروہ کہے بغیر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9024]
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9024 in Urdu