السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1905. -- باب: : لا يغطي المحرم رأسه وله أن يغطي وجهه
-- باب: محرم اپنا سر نہ ڈھانپے البتہ اسے اپنا چہرہ چھپانے کی اجازت ہے۔
حدیث نمبر: 9083
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَوْقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ، وَلَا رَأْسَهُ؛ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ عَنْ وَكِيعٍ دُونَ ذِكْرِ الْوَجْهِ فِيهِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ عَنْ سُفْيَانَ دُونَ ذِكْرِ الْوَجْهِ.
(الف) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کا اس کی اونٹنی نے منکا توڑ دیا جب کہ وہ محرم تھا، وہ فوت ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل دو اور اسی کے دو کپڑوں میں کفنا دو اور اس کا سر اور چہرہ نہ ڈھانپو، یہ قیامت کے دن تلبیہ کہتا ہوا اٹھے گا۔“
(ب) محمد بن عبداللہ بن نمیر نے اسے وکیع سے چہرے کے ذکر کے بغیر روایت کیا ہے، اور اسی طرح محمد بن کثیر اور عبداللہ بن ولید عدنی نے اسے سفیان سے چہرے کے ذکر کے بغیر روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9083]
(ب) محمد بن عبداللہ بن نمیر نے اسے وکیع سے چہرے کے ذکر کے بغیر روایت کیا ہے، اور اسی طرح محمد بن کثیر اور عبداللہ بن ولید عدنی نے اسے سفیان سے چہرے کے ذکر کے بغیر روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9083]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 120»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9083 in Urdu