السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1930. -- باب: لا رفث ولا فسوق ولا جدال في الحج
-- باب: حج میں نہ کوئی فحش بات ہے، نہ گناہ کا کام اور نہ ہی لڑائی جھگڑا۔
حدیث نمبر: 9174
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، أنبأ هُشَيْمٌ، أنبأ عَوْفٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: نَزَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَجَعَلَ يَسُوقُهَا وَهُوَ يَرْتَجِزُ وَهُوَ يَقُولُ:.
حصین فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنی اونٹنی سے اترے اور اس کو رجزیہ اشعار پڑھ کر چلانے لگے اور کہہ رہے تھے: اور وہ ہمارے ساتھ بھنبھناتی ہوئی چل رہیں، اگر پرندے نے سچ کہا تو ہم جماع کریں گے۔ انہوں نے جماع کا ذکر فرمایا اور کنایہ نہیں کیا تو میں نے کہا: اے ابن عباس! آپ «رَفَث» کہہ رہے ہیں حالانکہ آپ محرم ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: «رَفَث» وہ ہے جس کے ذریعہ عورتوں کی طرف رجوع کیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9174]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9174 in Urdu