السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1931. -- باب: المحرم يؤدب عبده
-- باب: محرم کا اپنے غلام کو ادب سکھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9177
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا، وِإِنَّ زِمَالَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزِمَالَةَ أَبِي بَكْرٍ وَاحِدٌ، فَنَزَلْنَا الْعَرْجَ وَكَانَتْ زِمَالَتُنَا مَعَ غُلَامِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَلَسَتْ عَائِشَةُ ⦗١٠٩⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَى جَنْبِهِ، وَجَلَسَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ، وَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي نَنْتَظِرُ غُلَامَهُ وَزِمَالَتَهُ حَتَّى يَأْتِيَنَا فَاطَّلَعَ الْغُلَامُ يَمْشِي وَمَا مَعَهُ بَعِيرُهُ قَالَ: فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَيْنَ بَعِيرُكَ؟ قَالَ: أَضَلَّنِي اللَّيْلَةَ، قَالَتْ: فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَضْرِبُهُ وَيَقُولُ: بَعِيرٌ وَاحِدٌ أَضْلَلْتَ وَأَنْتَ رَجُلٌ، فَمَا يَزِيدُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ يَبْتَسِمَ وَيَقُولُ:" انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْمُحْرِمِ وَمَا يَصْنَعُ".
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کے لیے نکلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے قافلہ کا سامان ایک ہی جگہ تھا اور ہمارا سامان سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام کے پاس تھا، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کے ایک طرف بیٹھ گئیں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری جانب بیٹھ گئے اور میں اپنے والد کے ساتھ بیٹھ گئی۔ ہم ان کے غلام اور اس سامان کا انتظار کرنے لگے کہ کب آتا ہے تو وہ غلام چلتا ہوا آیا، اس کے پاس اونٹ نہیں تھا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: ”تیرا اونٹ کدھر ہے؟“ تو وہ کہنے لگا: ”آج رات وہ گم ہو گیا ہے“، کہتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اٹھے اور اس کو مارنے لگے اور کہنے لگے: ”ایک اونٹ بھی تو نے گم کر دیا، تو کیسا آدمی ہے“، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زیادہ اور کچھ نہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے اور فرماتے تھے: ”اس محرم کو دیکھو یہ کیا کر رہا ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9177]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن خزيمه 2679۔ حاكم 1/623»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9177 in Urdu