السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1946. -- باب: تقبيل الحجر
-- باب: حجرِ اسود کو چومنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9222
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادٌ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَجُلٌ عَنِ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ"، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إنْ زُحِمْتُ؟ أَرَأَيْتَ إنْ غُلِبْتُ؟ قَالَ:" اجْعَلْ أَرَأَيْتَ بِالْيَمَنِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے حجر اسود کو چھونے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو چھوتے اور بوسہ دیتے تھے، تو اس نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے بھیڑ ہو جائے اور میں مغلوب ہو جاؤں؟ تو انہوں نے فرمایا: اس خیال کو یمن میں ہی رہنے دے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے چھوتے اور بوسہ دیتے دیکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9222]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1533۔ ترمذي 761»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9222 in Urdu