السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1959. -- باب: : كيف كان بدو الرمل؟
-- باب: رمل کی ابتدا کیسے ہوئی؟
حدیث نمبر: 9272
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَمَلَ وَأَنَّهَا سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا قُلْتُ: مَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ وَالْمُشْرِكُونَ عَلَى قُعَيْقِعَانَ وَكَانَ أَهْلُ مَكَّةَ قَوْمَ حَسَدٍ فَجَعَلُوا يَتَحَدَّثُونَ بَيْنَهُمْ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُعَفَاءُ، فَقَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرُوهُمْ مِنْكُمْ مَا يَكْرَهُونَ" فَرَمَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ وَقُوَّةَ أَصْحَابِهِ، وَلَيْسَتْ بِسُنَّةٍ، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ قَوْمَكَ ⦗١٣٣⦘ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَنَّهَا سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قَالَ: قُلْتُ: مَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَكَانَ أَهْلُ مَكَّةَ قَوْمَ حَسَدٍ فَخَرَجُوا حَتَّى خَرَجْتِ الْعَوَاتِقُ يَنْظُرُونَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَعُونَ عَنْهُ، قَالَ يَزِيدُ: يَعْنِي لَا يُدْفَعُونَ عَنْهُ، فَرَكِبَ وَكَانَ الْمَشْيُ أَحَبَّ إِلَيْهِ لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
ابو طفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کی قوم یہ سمجھتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل کیا اور یہ سنت ہے، انہوں نے کہا کہ وہ سچ اور جھوٹ کہتے ہیں، میں نے کہا: وہ کیا سچ اور جھوٹ کہتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور مشرکین قعیقعان پر تھے اور اہل مکہ بہت حسد کرنے والی قوم تھی تو وہ کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی کمزور ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو وہ دکھاؤ جسے وہ ناپسند کرتے ہیں“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل کیا تاکہ اپنی اور اپنے ساتھیوں کی قوت دکھائیں اور یہ سنت نہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا و مروہ پر سوار ہوئے اور یہ سنت ہے! انہوں نے فرمایا کہ وہ سچ اور جھوٹ کہتے ہیں، میں نے کہا: کیا سچ اور کیا جھوٹ ہے جو وہ کہتے ہیں؟ فرمانے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تشریف لائے اور اہل مکہ بہت زیادہ حسد کرنے والے تھے، وہ نکلے حتیٰ کہ عورتیں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے لگیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں کو ہٹایا نہ جاتا تھا تو اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے جب کہ چلنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ پسند تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9272]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1264۔ احمد 1/ 233»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9272 in Urdu