🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1979. -- باب: جواز السعي بين الصفا والمروة على غير طهارة وإن كان الأفضل أن يكون على طهارة
-- باب: بغیر طہارت کے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کے جواز کا بیان، اگرچہ افضل یہی ہے کہ طہارت کی حالت میں ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9354
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَبَّيْنَا بِالْحَجِّ، وَقَدِمْنَا مَكَّةَ لِأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَنَجْعَلَهَا عُمْرَةً وَنَحِلَّ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ وَلَمْ يَكُنْ مَعَ أَحَدٍ مِنَّا الْهَدْيُ غَيْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَلْحَةَ وَجَاءَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ وَمَعَهُ هَدْيٌ، فَقَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: نَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ مَنِيًّا؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"" لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ، وَلَوْلَا أَنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ""، قَالَ: وَلَقِيَهُ سُرَاقَةُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَنَا هَذِهِ خَاصَّةً أَمْ لِلْأَبَدِ؟، قَالَ:"" لَا بَلْ لِلْأَبَدِ"" وَكَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَدِمَتْ مَكَّةَ وَهِيَ حَائِضٌ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَنْسِكَ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَلَا تُصَلِّيَ حَتَّى تَطْهُرَ، فَلَمَّا نَزَلُوا الْبَطْحَاءَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتَنْطَلِقُونَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَنْطَلِقُ بِحَجَّةٍ؟ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَنْطَلِقَ مَعَهَا إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرَتْ عُمْرَةً فِي ذِي الْحِجَّةِ بَعْدَ أَيَّامِ الْحَجِّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور حج کا تلبیہ کہا، ہم چار ذوالحجہ کو مکہ میں پہنچے تو ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کریں اور اس کو عمرہ بنا کر حلال ہوجائیں، سوائے اس آدمی کے جس کے پاس قربانی ہے اور ہم میں سے کسی کے پاس بھی قربانی نہیں تھی، سوائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے۔ ان کے پاس بھی قربانی تھی تو انہوں نے کہا: میں بھی وہی تلبیہ کہتا ہوں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تو ہم نے کہا: ہم منیٰ جائیں گے اور ہمارے ذکر منی کے قطرے بہا رہے ہوں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے اپنے اس معاملہ کا پہلے علم ہوتا جو بعد میں ہوا ہے تو میں قربانی نہ لاتا اور اگر میرے پاس قربانی نہ ہوتی تو میں حلال ہوجاتا“، کہتے ہیں کہ آپ کو سراقہ ملے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ ہمارے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے“ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حیض کی حالت میں مکہ پہنچیں تو ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ تمام تر مناسکِ حج ادا کریں، لیکن بیت اللہ کا طواف نہ کریں اور نماز نہ پڑھیں حتیٰ کہ پاک ہوجائیں، تو جب وہ بطحاء میں اترے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ حج اور عمرہ کر کے جائیں گے اور میں صرف حج کر کے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہما کے بیٹے کو حکم دیا کہ ان کے ساتھ تنعیم تک جائیں، تو انہوں نے ذوالحجہ میں ایامِ حج کے بعد عمرہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9354]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6803»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9354 in Urdu