السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1983. -- باب: الطواف راكبا
-- باب: سوار ہو کر طواف (سعی) کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9379
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ طَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرِهِ، وَأنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ، قَالَ:" صَدَقُوا وَكَذَبُوا"، قُلْتُ: مَا قَوْلُكَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ قَالَ:" صَدَقُوا قَدْ طَافَ عَلَى بَعِيرِهِ وَكَذَبُوا لَيْسَ بِسُنَّةٍ إنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُدْفَعُ عَنْهُ النَّاسُ وَلَا يُصْرَفُونَ، فَطَافَ عَلَى بَعِيرِهِ؛ لِيَسْمَعُوا كَلَامَهُ وَيَرَوْا مَكَانَهُ وَلَا تَنَالَهُ أَيْدِيهِمْ".
ابوطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہا کہ آپ کی قوم یہ سمجھتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہو کر صفا و مروہ کا طواف کیا ہے اور یہ سنت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سچ اور جھوٹ بولتے ہیں۔ میں نے کہا: یہ سچ اور جھوٹ بولنے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا کہ سچ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر طواف کیا ہے اور جھوٹ یہ کہ وہ سنت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں کو ہٹایا نہیں جاتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر طواف کیا، تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ کی بات سن سکیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک ان کے ہاتھ نہ پہنچیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9379]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9379 in Urdu