🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1991. -- باب: المفرد والقارن يكفيهما طواف واحد وسعي واحد بعد عرفة فإن كانا قد سعيا بعد طواف القدوم اقتصرا على الطواف بالبيت بعد عرفة وتحللا
-- باب: حجِ افراد اور حجِ قران کرنے والوں کے لیے عرفہ کے بعد ایک طواف اور ایک سعی ہی کافی ہے، پس اگر انہوں نے طوافِ قدوم کے بعد سعی کر لی تھی تو وہ عرفہ کے بعد صرف بیت اللہ کے طواف پر اکتفا کریں اور حلال ہو جائیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9425
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ الْحَجَّ حِينَ نَزَلَ الْحُجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ فَكَلَّمَهُ ابْنَاهُ سَالِمٌ، وَعَبْدُ اللهِ فَقَالَا: لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ إِنَّا نَخَافُ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ النَّاسِ قِتَالٌ فَيُحَالُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، قَالَ: إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَالَتْ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَحَلَقَ وَرَجَعَ وَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الشَّجَرَةِ فَلَبَّى بِعُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا أَشْرَفَ بِظَهْرِ الْبَيْدَاءِ، قَالَ: مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْعُمْرَةِ، حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْحَجِّ، اشْهَدُوا أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي، قَالَ: وَلَيْسَ مَعَهُ يَوْمَئِذٍ هَدْيٌ فَسَارَ حَتَّى بَلَغَ قُدَيْدًا ابْتَاعَ بِهَا هَدْيًا فَقَلَّدَهُ وَأَشْعَرَهُ وَسَاقَهُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ مَكَّةَ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَكَانَ يَقُولُ:" مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ، وَالْعُمْرَةِ كَفَاهُ طَوَافٌ وَاحِدٌ، وَلَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ.
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب حجاج، ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حج کا ارادہ کیا تھا تو ان کے بیٹوں سالم اور عبداللہ نے ان سے کہا کہ اگر آپ اس سال حج نہ بھی کریں تو کوئی فرق نہیں پڑتا، ہمیں خدشہ ہے کہ لوگوں کے درمیان لڑائی شروع ہو جائے گی تو وہ آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو جائیں گے۔ وہ کہنے لگے: اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوا گیا تو میں ویسے ہی کروں گا جس طرح ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا جب قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈوایا اور واپس آ گئے اور میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کا ارادہ کیا ہے، پھر درخت کے پاس گئے اور عمرہ کا تلبیہ کہا حتیٰ کہ جب بیداء پر چڑھے تو کہنے لگے کہ معاملہ تو دونوں کا ایک سا ہی ہے، اگر میرے اور عمرہ کے درمیان حائل ہوا گیا تو میرے اور حج کے درمیان حائل ہوا گیا، گواہ ہو جاؤ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ ساتھ حج کی نیت بھی کر لی ہے۔ کہتے ہیں کہ اس وقت ان کے پاس قربانی نہ تھی، وہ چلے حتیٰ کہ قدید پہنچے، وہاں سے قربانی خریدی اس کو قلادہ پہنایا اور «إِشْعَارٌ» ”جانور کو نشان زد کرنا“ کیا اور اس کو اپنے ساتھ لے گئے، حتیٰ کہ جب مکہ داخل ہوئے تو ان دونوں (حج و عمرہ) کے لیے ایک ہی طواف کیا بیت اللہ کا بھی اور صفا و مروہ کا بھی، اور وہ فرماتے تھے کہ جو حج و عمرہ کو جمع کرے اس کو ایک ہی طواف کافی ہے اور وہ حلال نہ ہوئے حتیٰ کہ دونوں سے حلال ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9425]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1230»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9425 in Urdu