السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1994. -- باب: القران بين الأسابيع
-- باب: طواف کے سات سات چکروں (اسابیع) کو آپس میں ملانے (قران) کا بیان۔
حدیث نمبر: 9433
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْمَعْمَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، قَالَا: ثنا هُدْبَةُ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ سَبْعًا؛ ثُمَّ طََافَ سَبْعًا لِأَنَّهُ أَحَبَّ أَنْ يَرَى النَّاسُ قُوَّتَهُ" وَفِي رِوَايَةِ الْمَعْمَرِيِّ: طَافَ سَبْعًا، ثُمَّ طَافَ سَبْعًا؛ لِأَنَّهُ أَحَبَّ أَنْ يَرَى النَّاسُ، أَوْ يُرِيَ النَّاسَ قُوَّتَهُ وَقَدْ، قَالَ غَيْرُهُ فِي هَذَا الْمَتْنِ: طَافَ سَبْعًا وَطَافَ سَبْعًا، وَقِيلَ: أَرَادَ بِهِ طَافَ سَبْعًا بِالْبَيْتِ وَسَبْعًا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَا يَكُونُ مَدْخَلُهُ هَذَا الْبَابَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(الف) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سات طواف کیے، پھر دوبارہ سات چکر لگائے؛ کیونکہ آپ پسند کرتے تھے کہ لوگ آپ کی قوت دیکھیں۔
(ب) معمری کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چکر لگائے، پھر سات چکر لگائے؛ کیونکہ آپ پسند کرتے تھے کہ لوگ دیکھیں یا آپ لوگوں کو اپنی قوت دکھلائیں۔ دوسروں نے اس متن میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں: «طَافَ سَبْعًا وَطَافَ سَبْعًا» ”سات چکر لگائے اور سات چکر لگائے۔“
(ج) ایک قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ بیت اللہ کے سات چکر لگائے اور سات چکر صفا مروہ کے درمیان لگائے، تو اس باب میں اس کا مدخل نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9433]
(ب) معمری کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چکر لگائے، پھر سات چکر لگائے؛ کیونکہ آپ پسند کرتے تھے کہ لوگ دیکھیں یا آپ لوگوں کو اپنی قوت دکھلائیں۔ دوسروں نے اس متن میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں: «طَافَ سَبْعًا وَطَافَ سَبْعًا» ”سات چکر لگائے اور سات چکر لگائے۔“
(ج) ایک قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ بیت اللہ کے سات چکر لگائے اور سات چکر صفا مروہ کے درمیان لگائے، تو اس باب میں اس کا مدخل نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9433]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 1/ 255۔ طبراني كبير 21827»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9433 in Urdu