السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1996. -- باب: التوجه إلى منى يوم التروية، والإقامة بها إلى الغد ثم الغدو منها إلى عرفة
-- باب: یومِ ترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کو منیٰ کی طرف روانہ ہونے، اور اگلے دن تک وہاں قیام کرنے اور پھر صبح کے وقت وہاں سے عرفہ کی طرف جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9438
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ، وَأَبُو بَكْرٍ ⦗١٨١⦘ الْوَرَّاقُ قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَوَجَّهُوا إِلَى مِنًى أَهَلُّوا بِالْحَجِّ وَرَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِمِنًى الظُّهْرَ، وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ، وَالْعِشَاءَ، وَالصُّبْحَ، ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلًا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ شَعْرٍ فَضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ فَسَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَشُكُّ قُرَيْشٌ إِلَّا أَنَّهُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَجَازَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ فَنَزَلَ بِهَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا واقعہ سنایا اور فرمایا: پھر سارے لوگ حلال ہو گئے اور انہوں نے بال کٹوائے، سوائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اس شخص کے جس کے پاس قربانی تھی، تو جب ترویہ کا دن تھا اور وہ منیٰ کی طرف متوجہ ہوئے، انہوں نے حج کا تلبیہ کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کی اور عصر بھی اور مغرب و عشاء بھی اور صبح بھی، پھر تھوڑی دیر تک ٹھہرے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کے قبہ کا حکم دیا، اس کو نمرہ میں لگایا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور قریش کو اس میں کوئی شک نہیں تھا مگر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشعرِ حرام کے پاس ٹھہرنے والے ہیں، جس طرح قریش جاہلیت میں کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے آگے بڑھ گئے حتیٰ کہ عرفہ آئے اور دیکھا کہ قبہ نمرہ میں لگایا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں اترے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9438]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9438 in Urdu