السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1997. -- باب: التلبية يوم عرفة وقبله وبعده حتى يرمي جمرة العقبة
-- باب: یومِ عرفہ کو، اس سے پہلے، اور اس کے بعد تلبیہ پڑھنے کا بیان یہاں تک کہ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارے۔
حدیث نمبر: 9449
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" أَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ مَعَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَاتَّبَعْتُ هَوْدَجَهَا فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهَا تُلَبِّي حَتَّى رَمَتْ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ثُمَّ كَبَّرَتْ" وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ أَيْضًا عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
کریب کہتے ہیں کہ مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ عرفہ کے دن بھیجا، میں ان کے ہودج کے پیچھے پیچھے چلتا رہا اور میں ان کا تلبیہ سنتا رہا حتیٰ کہ انہوں نے جمرہ ٔعقبہ کو کنکریاں ماریں، پھر انہوں نے تکبیر کہی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9449]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9449 in Urdu