السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2007. -- باب: ما يفعل من دفع من عرفة
-- باب: جو شخص عرفات سے روانہ ہو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 9484
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ" فَقَالَ: فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَيْهَا عَادِيَةً حَتَّى أَتَى جَمْعًا.
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ سے انتہائی آرام و سکون کے ساتھ لوٹے اور آپ کے پیچھے اسامہ رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! تم سکون کو لازم پکڑو، نیکی اونٹ گھوڑے دوڑانے سے نہیں ہے۔“
فرماتے ہیں: پس میں نے (آپ کی سواری) کو نہیں دیکھا کہ وہ پاؤں کو اٹھا کر چلتی ہو (یعنی دوڑتی ہو) حتیٰ کہ آپ جمع (مزدلفہ) پہنچ گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9484]
فرماتے ہیں: پس میں نے (آپ کی سواری) کو نہیں دیکھا کہ وہ پاؤں کو اٹھا کر چلتی ہو (یعنی دوڑتی ہو) حتیٰ کہ آپ جمع (مزدلفہ) پہنچ گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9484]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابوداود 1930۔ طيالسي: 2702»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9484 in Urdu