🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2013. -- باب: من فصل بينهما مقدار ما ينيخ بعيره
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے ان دونوں (نمازوں) کے درمیان اپنا اونٹ بٹھانے کی مقدار کے برابر فاصلہ کیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9501
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ قُلْتُ: أَخْبِرْنِي كَيْفَ فَعَلْتُمْ، أَوْ صَنَعْتُمْ عَشِيَّةَ رَدِفْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنِيخُ فِيهِ النَّاسُ لِلْمُعَرَّسِ، فَأَنَاخَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ، ثُمَّ بَالَ، مَا قَالَ زُهَيْرٌ: إِهْرَاقُ الْمَاءِ، ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ جِدًّا قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، الصَّلَاةَ، قَالَ:" الصَّلَاةُ أَمَامَكَ" قَالَ: فَرَكِبَ حَتَّى قَدِمْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ وَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ فَصَلَّى ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ؟، قَالَ: رَدِفَهُ الْفَضْلُ وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلِيَّ، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ.
کریب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ”مجھے بتاؤ جس رات تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے اس دن تم نے کیسے کیا تھا؟“ وہ کہتے ہیں: ہم اس گھاٹی سے آئے جس میں لوگ رات گزارنے کے لیے اونٹ بٹھاتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی بٹھائی، پھر پیشاب کیا۔ پھر وضو کا پانی منگوایا اور ہلکا پھلکا وضو کیا۔ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! نماز۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الصَّلَاةُ أَمَامَكَ» ”نماز تیرے آگے ہے۔“ وہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے حتیٰ کہ ہم مزدلفہ آئے، مغرب کی اقامت کہی گئی، پھر لوگوں نے اپنی اپنی جگہوں پر اونٹ بٹھائے اور ابھی انہوں نے کجاوے نہ کھولے تھے کہ عشاء کی اقامت ہو گئی۔ پھر لوگ آزاد ہو گئے، میں نے کہا: تم نے صبح کیا کیا؟ وہ کہتے ہیں: فضل رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف بنے اور میں پیادہ قریش کے اگلے قافلے میں تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9501]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1280»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9501 in Urdu