السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2021. -- باب: من لم يستحب الإيضاع
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے سواری تیز دوڑانے کو مستحب نہیں سمجھا۔
حدیث نمبر: 9532
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، حَدَّثَنِي عَزْرَةُ أَنَّ الشَّعْبِيَّ حَدَّثَهُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ قَالَا: أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنَّهُ أَفَاضَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ فَلَمْ تَرْفَعْ رَاحِلَتُهُ رِجْلَيْهَا عَادِيَةً حَتَّى بَلَغَ جَمْعًا"، قَالَ: وَحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ فَلَمْ تَرْفَعْ رَاحِلَتُهُ رِجْلَيْهَا عَادِيَةً حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ"، لَفْظُ حَدِيثِ الْمُقْرِئُ وَفِي رِوَايَةِ عَفَّانَ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَ أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ فَلَمَّا أَفَاضَ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ الثَّانِي: إِنَّ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، ⦗٢٠٧⦘ وَرُوِّينَا عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا، وَكَانَ يُنْكِرُ الْإِيضَاعَ، وَعَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا أَحْدَثَ هَؤُلَاءِ الْإِسْرَاعَ يُرِيدُونَ أَنْ يَفُوتُوا الْغُبَارَ، وَقَدْ رُوِّينَا الْإِيضَاعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَالْقَوْلُ فِي مِثْلِ هَذَا قَوْلُ مَنْ أَثْبَتَ دُونَ قَوْلِ مَنْ نَفَى، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفہ سے لوٹے، آپ کی سواری نے اپنے پاؤں زیادہ نہیں اٹھائے حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچے اور مجھے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ وہ مزدلفہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے۔ آپ کی سواری نے پاؤں زیادہ نہیں اٹھائے حتیٰ کہ جمرہ کو کنکریاں ماریں۔
عفان کی روایت میں ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ وہ عرفہ کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے۔۔۔ اور دوسری حدیث میں فرماتے ہیں کہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں حدیث بیان کی۔ [صحیح]
طاؤس یمانی رحمہ اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اور وہ سواری کو بھگانے کی نفی کرتے تھے۔
اور عطاء رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ یہ تیز چلنا انہوں نے ایجاد کیا ہے، وہ غبار سے آگے نکلنا چاہتے تھے۔
ہم نے وادیٔ محسر میں سواری بھگانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، پھر صحابہ کی ایک کثیر تعداد سے بھی منقول ہے۔
اس بارے میں صحیح قول اس کا ہے جس نے ثابت کیا ہے، ماسوائے اس کے قول کے جس نے اس کی نفی کی ہے۔ وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9532]
عفان کی روایت میں ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ وہ عرفہ کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے۔۔۔ اور دوسری حدیث میں فرماتے ہیں کہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں حدیث بیان کی۔ [صحیح]
طاؤس یمانی رحمہ اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اور وہ سواری کو بھگانے کی نفی کرتے تھے۔
اور عطاء رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ یہ تیز چلنا انہوں نے ایجاد کیا ہے، وہ غبار سے آگے نکلنا چاہتے تھے۔
ہم نے وادیٔ محسر میں سواری بھگانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، پھر صحابہ کی ایک کثیر تعداد سے بھی منقول ہے۔
اس بارے میں صحیح قول اس کا ہے جس نے ثابت کیا ہے، ماسوائے اس کے قول کے جس نے اس کی نفی کی ہے۔ وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9532]
تخریج الحدیث: «احمد 1/ 213۔ ابويعلي 6721»
الحكم على الحديث: احمد 1/ 213
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9532 in Urdu