السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2026. -- باب: استحباب النزول في الرمي في اليومين الآخرين
-- باب: آخری دو دنوں میں رمی کے دوران سواری سے اترنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9562
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْعَوَّامِّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ" أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَرْكَبَ إِلَى شَيْءٍ مِنَ الْجِمَارِ إِلَّا مِنْ ضَرُورَةٍ" كَذَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي، وَقَدْ سَقَطَ مِنْ إِسْنَادِهِ بَيْنَ إِبْرَاهِيمَ وَعَطَاءٍ رَجُلٌ، وَرِوَايَةُ ابْنِ عُيَيْنَةَ أَصَحُّ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما جمار کی طرف ضرورت کے بغیر سوار ہو کر جانا ناپسند فرماتے تھے۔
میں نے اسے اپنی کتاب میں اسی طرح پایا ہے، اس کی سند سے ابراہیم اور عطاء کے درمیان ایک راوی ساقط ہو گیا ہے، اور ابن عیینہ کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9562]
میں نے اسے اپنی کتاب میں اسی طرح پایا ہے، اس کی سند سے ابراہیم اور عطاء کے درمیان ایک راوی ساقط ہو گیا ہے، اور ابن عیینہ کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9562]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9562 in Urdu