السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2028. -- باب: من أجاز رميها بعد نصف الليل
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے آدھی رات کے بعد اس کی رمی کو جائز قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 9573
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، ثنا الشَّافِعِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارِ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" دَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ يَوْمَ النَّحْرِ فَأَمَرَهَا أَنْ تُعَجِّلَ الْإِفَاضَةَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّى تَأْتِيَ مَكَّةَ فَتُصَلِّيَ بِهَا الصُّبْحَ، وَكَانَ يَوْمَهَا فَأَحَبَّ أَنْ تُوَافِقَهُ" قَالَ: وَحَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ أَثِقُ بِهِ مِنَ الْمَشْرِقِيِّينَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. كَذَا رَوَاهُ فِي الْإِمْلَاءِ، وَرَوَاهُ فِي الْمُخْتَصَرِ الْكَبِيرِ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" حَتَّى تَرْمِيَ الْجَمْرَةَ وَتُوَافِيَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِمَكَّةَ وَكَانَ يَوْمَهَا، فَأَحَبَّ أَنْ تُوَافِقَهُ" أَوْ" تُوَافِيَهُ"، وَقَالَ فِي الْإِسْنَادِ الثَّانِي: أَخْبَرَنِي الثِّقَةُ، عَنْ هِشَامٍ، أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ فَذَكَرَهُ وَكَأَنَّ الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللهُ أَخَذَهُ مِنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرِ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ مَوْصُولًا.
(الف) عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس نحر والے دن گئے تو انہیں حکم دیا کہ وہ جلدی جمع سے لوٹ جائیں ”حتیٰ کہ مکہ میں جا کر صبح کی نماز ادا کریں“ اور وہ ان کا دن تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند کیا کہ یہ آپ کے ساتھ ملیں۔
(ب) ایک دوسری سند سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اسی کی مثل روایت بیان کرتی ہیں: اسی طرح اس کو انہوں نے املاء میں روایت کیا ہے اور المختصر الکبیر میں دونوں سندوں کے ساتھ بیان کیا ہے مگر یہ کہ انہوں نے فرمایا: ”حتیٰ کہ جمرہ کو کنکریاں مار لیں اور وہ مکہ میں صبح کی نماز کے وقت ان کے ساتھ ملیں“ اور وہ ان (سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا) کا دن تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند کیا کہ وہ آپ کے ساتھ ملیں۔
اور دوسری سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9573]
(ب) ایک دوسری سند سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اسی کی مثل روایت بیان کرتی ہیں: اسی طرح اس کو انہوں نے املاء میں روایت کیا ہے اور المختصر الکبیر میں دونوں سندوں کے ساتھ بیان کیا ہے مگر یہ کہ انہوں نے فرمایا: ”حتیٰ کہ جمرہ کو کنکریاں مار لیں اور وہ مکہ میں صبح کی نماز کے وقت ان کے ساتھ ملیں“ اور وہ ان (سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا) کا دن تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند کیا کہ وہ آپ کے ساتھ ملیں۔
اور دوسری سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 9573]
تخریج الحدیث: «منكر۔ شافعي 1701»
الحكم على الحديث: منكر
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 9573 in Urdu